ابنا: دوسرے مرحلے میں عالمی سامراج سے وابستہ میڈیا نے زور و شور سے اس بات کا پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ شامی فوج نے بےگناہ اور نہتے عوام کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے اور اسے اس کی سزا ملنی چاہیے۔ اس کے بعد امریکہ نے اپنے کھیل کے دیگر مراحل پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔امریکی وزیر جنگ چیک ہیگل کے مطابق امریکا شامی تنازع میں مداخلت کے حوالے سے ممکنہ اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ اسی سلسلے میں امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی بحری فوج کی پوزیشن تبدیل کر نا شروع کر دی ہے اور ایک بحری بیڑہ بحرہ روم کی طرف روانہ کردیا ہے، بحیرہ جو کروز میزائل سے لیس ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے شام کے خلاف فوجی اقدام سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔جبکہ امریکی صدربارک اوباما اور برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے شام میں مبینہ طور پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال پر اظہار تشویش کیا ہے۔ دونوں رہنماوٴں نے شامی حکومت کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ وائٹ ہاوس سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماوٴں نے شامی حکومت کے خلاف عالمی برادری کے ردعمل پر بھی تبادلہ خیال کیا۔۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بارک اوباما کو شام کے خلاف فوجی کارروائی کے ممکنہ آپشن پر مشتمل سیکیورٹی مشیروں کی تجاویز بھی موصول ہوئی ہیں۔ ان تجاویز کی بنیاد پر طے کیا جائے گا کہ امریکا اوراس کے اتحادی شامی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کا کس طرح جواب دیں گے۔دریں اثنا ایرانی وزارت خارجہ کےترجمان نے شام کےداخلی امور میں ہرطرح کی غیرملکی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے جو اس ملک ميں تشدد ، جھڑپوں اور عوام کےقتل عام پرمنتج ہوئی ہے، کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی نظر میں شام کا بحران کچھ مخصوص ملکوں کی مرضی اورمطالبات کی بنیاد پر نہيں بلکہ شام کی حکومت اور شامی عوام کےدرمیان مذاکرات کےذریعے حل ہوسکتا ہے۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام میں دہشتگردوں کے ہاتھوں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کے لئے فنڈز اور ہتھیار بھیجنے کا سلسلہ روکنے اور اس اقدام کی مذمت کے لئے فرانس اوردوسرے تمام مغربی ممالک کےردعمل کامطالبہ کیا۔ادھر روس کےوزیر خارجہ نے شام میں طاقت کے استمعمال کے مطالبات پر شدید تنقید کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر شام ميں طاقت کے استعمال کا فیصلہ کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے کی بعض یورپی ممالک کی اپیلوں کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔امریکہ اور بعض مغربی ممالک کی جانب سے ایک ایسے وقت میں شامی فوج پر کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں کہ جب آزاد بین الاقوامی اداروں اور روس کی اس بارے میں رپورٹیں مغربی دعووں کو غلط قرار دے رہی ہیں۔ مثال کے طور پر روس نے اس بارے میں اسّی صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ شائع کی اور اسی طرح اپریل مئی دو ہزار تیرہ میں اقوام متحدہ کے ایک آزاد کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شامی باغی اور دہشت گرد ہیں جنہوں نے حلب کے نواحی علاقے خان العسل میں کیمیاوی ہتھیار استعمال کیے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شام کی حکومت نے خود اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں اور انسپکٹروں کو کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال اور اس کے ذمہ داروں کے بارے میں تحقیق کی دعوت دی ہے تو اس کی جانب سے ایسا اقدام کسی بھی طرح منطقی اور عاقلانہ دکھائی نہیں دیتا ہے۔ دوسری جانب یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ شامی فوج بہت طاقتور ہے اور اسے کیمیاوی ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے اور حالیہ چند ماہ کے دوران دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج کی کامیابیاں اس کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ جبکہ اس قسم کی بربریت کا ارتکاب وہی کرتا ہے کہ جس کو شکست اپنے سامنے دکھائي دیتی ہے۔شام کے وزیر اطلاعات و نشریات عمران الزعبی نے لبنان کے المیادین ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا ہے کہ یورپ اور امریکا، شام کے خلاف فوجی کارروائی کی سازش کر رہے ہیں تاہم انھیں یہ بات جان لینی چاہیئے کہ وہ اپنی سازش میں یونہی کامیاب نہیں ہوسکیں گے بلکہ شام پر حملے کے پورے مشرق وسطی کیلئے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔اس بات میں کوئي شک نہیں کہ شام کو صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کا فرنٹ لائن ملک ہونے کی سزا دی جا رہی ہے اور وہاں حالات خراب کرنے اور بشار اسد کی حکومت کو گرانے کا مقصد صیہونیت مخالف محاذ کو کمزور کرنا ہے۔اس کے علاوہ شام کے حالات کو خراب کرنے کے جہاں دیگر مقاصد ہیں وہیں ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس کے بنیادی ڈھانچے کو پوری طرح تباہ کر دیا جائے اور پھر وہاں حکومت کی تبدیلی کے بعد اپنی کٹھ پتلی حکومت کو برسراقتدار لا کر تعمیرنو کی آڑ میں امریکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیے جائیں۔ یہ وہ کھیل ہے جو افغانستان اور عراق سمیت بہت سے اسلامی ملکوں میں کھیلا گيا ہے۔ آخر سیکڑوں امریکی کمپنیوں کو بھی تو دنیا میں کاروبار اور کام کرنا ہے!
.....
/169